قابل قدر افراد
ہر تنخواہ دار ملازم کو اس دن کا بڑی شدت سے انتظار ہوتا ہے جب یہ نوید دی جاتی ہے کہ اس کی تنخواہ بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر دی گئی ہے۔اس سلسلے میں کلرک صاحبان کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ تنخواہ وقت پر بینک میں نہ پہنچ پائے۔اگر کسی ماہ وقت پر تنخواہ مل جائے تو یقین ہی نہیں آتا کہ یہ خواب ہے یا حقیقت۔ اس دن دس تاریخ تھی اور تنخواہ ملنے کا مستقبل قریب میں کوئی امکان نہ تھا۔ہم اسی ادھیڑ بن میں مصروف تھے جب چپراسی نے انتہائی راز داری سے یہ اطلاع دی کہ تنخواہ بینک میں منتقل ہو چکی ہے۔ہم نے ممنون نظروں سے اس کی طرف دیکھا حالانکہ تنخواہ کی منتقلی میں اس چپراسی کا کوئی کردار نہ تھا۔ ہم نے اس مفید اطلاع پر اس کا شکریہ اد کرتے ہوئے ا سے اپنا چیک تھما دیا۔جس طرح کلرک حضرات کسی کا کام وقت پر کرنا گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں اسی طرح اب یہ عادت آہستہ آہستہ درجہء چہارم کے ملازموں میں بھی آتی جا رہی ہے ۔چپراسی نے معذرت خواہانہ انداز میں کہا کہ جناب مجھے وقت ملا تو کیش کروا لاؤ ں گا مگر وعدہ نہیں کرتا۔اس کے غیر تسلی بخش جواب پر ہم نے ایک نظر چپراسی کے حلیے پر ڈالی ۔بغیر استری کے کپڑوں اور نیم پالش شدہ جوتے پہنے ،پیلے دانت منہ سے باہر نکالے وہ ہماری بے بسی پر مسکرا رہا تھا ۔ہم نے بڑوں سے سنا ہے کہ مصیبت کے وقت گدھے کو بھی باپ بنانا پڑتا ہے ۔ہم نے جیب سے دس روپے کا نوٹ نکالا اور اس کی مٹھی میں دیتے ہوئے کہا کہ اس کی چائے پی لینا اب جلدی سے میرا کام کر آؤ۔اس نے چہرے پر ابلیسانہ مسکراہٹ سجاتے ہوئے دس روپے کا نوٹ جیب میں ٹھونسا اور بینک کا کہہ کر روانہ ہو گیا ۔
ہم آنکھیں بند کیے تنخواہ کو اخراجات پر تقسم کرنے میں مصروف تھے کہ چپراسی نے باآواز بلند ہمیں یہ کہہ کر جگا دیا کہ جناب آپ کا چیک کیش نہیں ہو سکا۔کیشئر نے کہا ہے کہ آپ کے دستخط درست نہیں ہیں ۔ہم نے حیرانی او ر پریشانی سے چپراسی سے پوچھا کہ تم ہر ماہ تنخواہ بینک سے لاتے ہو مگر اس دفعہ دستخط کا مسئلہ کیوں پیش آیا۔اس نے بتایا کہ نئے کیشئر صاحب نے آج ہی ڈیوٹی سنبھالی ہے ۔ہم نے مایوسی سے چیک اس کے ہاتھ لیا اور اسے دوبارہ جیب میں ڈالا،ویسے گذشتہ چند دن سے وہ چیک ہماری جیب کے درجہء حرارت سے سمجھوتہ کر چکا تھا۔وہ ادارہ جس میں ہم ملازم ہیں ایک پرائیویٹ ادارہ ہے۔ادارے کے سربراہ سے بینک جانے کی اجازت مانگنا بے سود تھاکیونکہ ابھی چند دن قبل ایک جنازے میں شرکت کی مختصر چھٹی مانگنے پر انہوں نے صاف انکار کر دیا تھا لہذا ان سے کسی قسم کی امید وابستہ کرنا سراسر حماقت تھی۔اس وقت ہمیں سرکاری ملازمت کی اہمیت کا احساس ہوا کہ کاش ہم بھی کسی سرکاری ادارے میں ملازم ہوتے تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتاکیونکہ سرکاری اداروں کے ملازمین شاذ و نادر ہی اپنی ڈیوٹی ادا کرتے نظر آتے ہیں ان ملازمین کی صرف نوکری سرکاری محکمہ میں ہوتی ہے جبکہ ان کے بچے شہر کے بہترین پرائیویٹ سکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں کیونکہ ان افراد کی اوپر کی آمدنی (جسے وہ اللہ کا کرم تصور کرتے ہیں)خاصی ہوتی ہے اور اسے ہضم کر نے کے لئے مضبوط دل گردے درکار ہوتے ہیں لہذا ان لوگوں کے ڈاکٹرز کی طرف اکثر چکر لگتے رہتے ہیں جہاں وہ پرائیویٹ طورپر چیک اپ کرواتے ہیں او ر بظاہر مسیحا نظر آنے والے ڈاکٹرز کی تجوری کو اپنی سو فیصد’’ حلال کمائی‘‘ سے بھرتے رہتے ہیں ۔
دفتر سے واپسی پر ہم ناک کی سیدھ میں بینک کی طرف روانہ ہوئے ۔بینک کے گیٹ پر سکیورٹی گارڈ ہمارے ہاتھ میں شاپنگ بیگ دیکھتے ہی ہمیں خود کش بمبار سمجھ کر تیر کی طرح ہماری طر ف لپکا ۔ہم نے بلا تاخیر بیگ اس کی طرف بڑھا دیا جسے چیک کرکے اس نے ہمیں واپس کر دیا۔ کیشئر صاحب تک پہنچنا جوئے شیر لانا ثابت ہوا کیونکہ انتظار کرنے والو ں کی لائن میں انتیس افراد پہلے سے موجود تھے جبکہ تیسوا ں امیدوار میں تھا ۔ابھی لائن میں ٹھہرے مجھے چند منٹس ہی گزرے ہوں گے کہ انکشاف ہوا کہ تمام افراد کے چیک صرف دستخط درست نہ ہونے کی وجہ سے کیش نہیں ہو پائے۔میں نے ماتھے پرنمودار ہونے والے پسینے کے قطرے صاف کرتے ہوئے اس عظیم و اعلی رتبہ کیشئر کی جانب دیکھا جو بڑی بے نیازی سے ایل سی ڈی پر کیش وصول کرنے والوں کو ان کے دستخط دکھاتے ہوئے یہ بتا رہا تھا کہ کیش کا معاملہ ہے ،غلطی کی صورت میں پچیس لاکھ روپے جرمانہ ہے لہذا احتیاط ضروری ہے ۔کیشئر صاحب بہت تسلی سے تمام افراد کو وقت دے رہے تھے ۔تقریبا دو گھنٹوں کے جان لیوا انتظار کے بعد جب ہمیں اس اعلی مرتبہ کیشئر صاحب کے روبرو پیش ہونے کا موقع ملا تو جناب نے شان بے نیازی سے فرمایا کہ جناب بینک کا ٹائم ختم ہو چکا ہے پلیز کل تشریف لائیے گا ۔ہم گذشتہ دو گھنٹوں میں موصوف کیشئر صاحب پر لگ بھگ ایک ہزار مرتبہ قربان ہو چکے تھے۔ہم نے انتہائی عاجزی سے ان سے درخواست کی کہ جناب مجھے اندازہ ہے کہ آپ صبح سے اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے تھک چکے ہیں اگر ممکن ہو تو مہربانی کر دیں ۔کیشئر صاحب نے میرے چہرے پر مشکوک نظروں سے دیکھا اور چیک میرے ہاتھ سے لے لیا ۔میں اس انتظار میں رہا کہ ابھی مجھے میرے دستخط کمپیوٹر ایل سی ڈی پر دکھائے جائیں گے اور مجھے اپنے چیک پر دوبارہ دستخط کرنے پڑیں گے مگر ایسا کچھ نہ ہوا ۔رقم مجھے دی جا چکی تھی ۔میں نے رقم جیب میں منتقل کی اور گھر طرف چلا پڑا ۔ میری نظر میں کیشئر صاحب کا رتبہ اور مقام جو پہلے تھا اس میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے ۔آپ کو بھی معاشرے میں ایسے کردار نظر آئیں تو آپ پر واجب ہے کہ انہیں عزت و احترام سے نوازیں ۔
ہم آنکھیں بند کیے تنخواہ کو اخراجات پر تقسم کرنے میں مصروف تھے کہ چپراسی نے باآواز بلند ہمیں یہ کہہ کر جگا دیا کہ جناب آپ کا چیک کیش نہیں ہو سکا۔کیشئر نے کہا ہے کہ آپ کے دستخط درست نہیں ہیں ۔ہم نے حیرانی او ر پریشانی سے چپراسی سے پوچھا کہ تم ہر ماہ تنخواہ بینک سے لاتے ہو مگر اس دفعہ دستخط کا مسئلہ کیوں پیش آیا۔اس نے بتایا کہ نئے کیشئر صاحب نے آج ہی ڈیوٹی سنبھالی ہے ۔ہم نے مایوسی سے چیک اس کے ہاتھ لیا اور اسے دوبارہ جیب میں ڈالا،ویسے گذشتہ چند دن سے وہ چیک ہماری جیب کے درجہء حرارت سے سمجھوتہ کر چکا تھا۔وہ ادارہ جس میں ہم ملازم ہیں ایک پرائیویٹ ادارہ ہے۔ادارے کے سربراہ سے بینک جانے کی اجازت مانگنا بے سود تھاکیونکہ ابھی چند دن قبل ایک جنازے میں شرکت کی مختصر چھٹی مانگنے پر انہوں نے صاف انکار کر دیا تھا لہذا ان سے کسی قسم کی امید وابستہ کرنا سراسر حماقت تھی۔اس وقت ہمیں سرکاری ملازمت کی اہمیت کا احساس ہوا کہ کاش ہم بھی کسی سرکاری ادارے میں ملازم ہوتے تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتاکیونکہ سرکاری اداروں کے ملازمین شاذ و نادر ہی اپنی ڈیوٹی ادا کرتے نظر آتے ہیں ان ملازمین کی صرف نوکری سرکاری محکمہ میں ہوتی ہے جبکہ ان کے بچے شہر کے بہترین پرائیویٹ سکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں کیونکہ ان افراد کی اوپر کی آمدنی (جسے وہ اللہ کا کرم تصور کرتے ہیں)خاصی ہوتی ہے اور اسے ہضم کر نے کے لئے مضبوط دل گردے درکار ہوتے ہیں لہذا ان لوگوں کے ڈاکٹرز کی طرف اکثر چکر لگتے رہتے ہیں جہاں وہ پرائیویٹ طورپر چیک اپ کرواتے ہیں او ر بظاہر مسیحا نظر آنے والے ڈاکٹرز کی تجوری کو اپنی سو فیصد’’ حلال کمائی‘‘ سے بھرتے رہتے ہیں ۔
دفتر سے واپسی پر ہم ناک کی سیدھ میں بینک کی طرف روانہ ہوئے ۔بینک کے گیٹ پر سکیورٹی گارڈ ہمارے ہاتھ میں شاپنگ بیگ دیکھتے ہی ہمیں خود کش بمبار سمجھ کر تیر کی طرح ہماری طر ف لپکا ۔ہم نے بلا تاخیر بیگ اس کی طرف بڑھا دیا جسے چیک کرکے اس نے ہمیں واپس کر دیا۔ کیشئر صاحب تک پہنچنا جوئے شیر لانا ثابت ہوا کیونکہ انتظار کرنے والو ں کی لائن میں انتیس افراد پہلے سے موجود تھے جبکہ تیسوا ں امیدوار میں تھا ۔ابھی لائن میں ٹھہرے مجھے چند منٹس ہی گزرے ہوں گے کہ انکشاف ہوا کہ تمام افراد کے چیک صرف دستخط درست نہ ہونے کی وجہ سے کیش نہیں ہو پائے۔میں نے ماتھے پرنمودار ہونے والے پسینے کے قطرے صاف کرتے ہوئے اس عظیم و اعلی رتبہ کیشئر کی جانب دیکھا جو بڑی بے نیازی سے ایل سی ڈی پر کیش وصول کرنے والوں کو ان کے دستخط دکھاتے ہوئے یہ بتا رہا تھا کہ کیش کا معاملہ ہے ،غلطی کی صورت میں پچیس لاکھ روپے جرمانہ ہے لہذا احتیاط ضروری ہے ۔کیشئر صاحب بہت تسلی سے تمام افراد کو وقت دے رہے تھے ۔تقریبا دو گھنٹوں کے جان لیوا انتظار کے بعد جب ہمیں اس اعلی مرتبہ کیشئر صاحب کے روبرو پیش ہونے کا موقع ملا تو جناب نے شان بے نیازی سے فرمایا کہ جناب بینک کا ٹائم ختم ہو چکا ہے پلیز کل تشریف لائیے گا ۔ہم گذشتہ دو گھنٹوں میں موصوف کیشئر صاحب پر لگ بھگ ایک ہزار مرتبہ قربان ہو چکے تھے۔ہم نے انتہائی عاجزی سے ان سے درخواست کی کہ جناب مجھے اندازہ ہے کہ آپ صبح سے اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے تھک چکے ہیں اگر ممکن ہو تو مہربانی کر دیں ۔کیشئر صاحب نے میرے چہرے پر مشکوک نظروں سے دیکھا اور چیک میرے ہاتھ سے لے لیا ۔میں اس انتظار میں رہا کہ ابھی مجھے میرے دستخط کمپیوٹر ایل سی ڈی پر دکھائے جائیں گے اور مجھے اپنے چیک پر دوبارہ دستخط کرنے پڑیں گے مگر ایسا کچھ نہ ہوا ۔رقم مجھے دی جا چکی تھی ۔میں نے رقم جیب میں منتقل کی اور گھر طرف چلا پڑا ۔ میری نظر میں کیشئر صاحب کا رتبہ اور مقام جو پہلے تھا اس میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے ۔آپ کو بھی معاشرے میں ایسے کردار نظر آئیں تو آپ پر واجب ہے کہ انہیں عزت و احترام سے نوازیں ۔
Writer ne jo feeling biyan keen hain wo hamain apney ird gird nazer aati hain.This is why I think that writer try sketch the reality in the column.
ReplyDeleteDanish Murad
Wajid Ali ney jiN logon ka zikeR apney columN maiN kya hey wo dunya bheR maiN kaseeR tadaD main maujood haiN.Zarorar is ameR ki he ke huM apney girebaN main jhanke aur dekhaiN kiya huM bhi onhi afraD ki tarN to nahi haiN jiN ka zikeR column maiN kiya gaya he.
ReplyDeleteShumaila Durani
Well done
ReplyDeleteDanish,Shumaila and Zaffer thank you very much for nice comments.
ReplyDeleteWajid Ali